مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب اسرائیل کے حامیوں اور صہیونیت مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر سے قبل سیکڑوں یہودی مظاہرین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
نیویارک پولیس کے اہلکار مظاہرین کے درمیان تعینات رہے۔ اسرائیل کے حامیوں نے ایسے نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’’عالمی یہود دشمنی کو ابھی ختم کریں‘‘ اور '’یہود دشمنی بند کریں‘‘۔
دوسری جانب آرتھوڈوکس یہودی اور صہیونیت مخالف مظاہرین رکاوٹوں کے پیچھے کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بنیامین نتن یاہو کی تصاویر والے پوسٹرز موجود تھے جن پر ’’انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں مطلوب‘‘ درج تھا۔ مظاہرین نے صہیونیت کے خلاف دیگر پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو فیصلہ کن انتخابات سے چند ہفتے قبل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کی نئی اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔
اخبار نے موجودہ صورتحال کو نتن یاہو اور اسرائیل کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدھ تک نتن یاہو کے نیویارک کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ نتن یاہو نیویارک میں رات کو قیام کیے بغیر براہ راست مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واپس جائیں گے۔
اسی حوالے سے امریکی ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز میں امریکہ اور مشرق وسطی کے تعلقات کے ماہر محقق جسی وائنبرگ نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت کہ یہ دورہ صرف ایک روز پر مشتمل ہے اور ٹرمپ بھی ان سے ملاقات نہیں کریں گے، اس مشکل صورتحال کی تصدیق کرتی ہے جس میں اسرائیل اور اس کی قیادت اس وقت گرفتار ہیں۔
آپ کا تبصرہ